وراثت کا قانون اور بنیادی حقائق
وفات کے بعد وراثت کا قانون وارثوں کے حصے اور اثاثوں کی منتقلی کے طریقے بتاتا ہے۔ بینک کھاتوں اور حصص کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ (Succession Certificate) درکار ہو سکتا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن (Letter of Administration) لیا جاتا ہے یا پنجاب میں انتقال (Mutation) درج کرایا جاتا ہے۔ اختلاف کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور مسلم پرسنل لا وراثتی حصوں کے قانونی پس منظر میں شامل ہیں۔ اس آرڈیننس کے تحت خواتین کا وراثتی حق محفوظ ہے۔
| اثاثہ | دفتر یا قانونی راستہ | درخواست کون دیتا ہے | کارروائی کا نتیجہ |
|---|---|---|---|
| بینک رقم، حصص اور دوسرے مالی اثاثے | نادرا کا جانشینی سہولت یونٹ (Succession Facilitation Unit) یا سول عدالت | قانونی وارث، متعلقہ ثبوت کے ساتھ | منقولہ اثاثے وصول کرنے کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ |
| زمین، مکان اور دوسری غیر منقولہ جائیداد | نادرا سے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن یا پنجاب میں اراضی ریکارڈ سنٹر (Arazi Record Centre) کے ذریعے انتقال وراثت | قانونی وارث | زمین کے ریکارڈ میں وارثوں کے نام کا اندراج |
درخواست سے پہلے وفات کا سرٹیفکیٹ، شناختی دستاویزات، وارثوں کی فہرست اور اثاثے کے کاغذات اکٹھے کریں۔ ناموں میں فرق، وارث کا نام رہ جانا یا ملکیت پر اعتراض کارروائی روک سکتا ہے۔ وکیل کاغذات کا تقابل کرکے کمی یا تضاد دیکھتا ہے۔
وراثت کی تقسیم کے اہم نکات
وراثت کی تقسیم میں وفات کے وقت زندہ وارثوں کے شرعی حصے طے ہوتے ہیں۔ اثاثوں کی منتقلی کے لیے الگ طریقۂ کار ہے۔ مسلمان ایک تہائی تک وصیت کر سکتا ہے، اور خاتون اپنے حصے کی حق دار ہے۔ وارثوں میں اختلاف ہو تو سول عدالت میں تقسیم کا دعویٰ (Partition Suit) دائر کیا جا سکتا ہے۔
- شرعی حصے وفات کے وقت زندہ وارثوں کے رشتوں کے مطابق طے ہوتے ہیں۔
- منقولہ اثاثوں کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ لیا جاتا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن یا انتقال کا راستہ ہے۔
- خاندان کا دباؤ خاتون کا وراثتی حق خود بخود ختم نہیں کرتا۔
- تقسیم پر اختلاف کی صورت میں سول عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
وفات پر وراثت کب کھلتی ہے
وراثت کا حق وفات کے بعد کھلتا ہے۔ والد کے زندہ ہوتے ہوئے اولاد کو محض رشتے کی وجہ سے وراثتی دعویٰ حاصل نہیں ہوتا۔ وفات کے بعد شریک حیات، بچوں اور والدین سمیت زندہ وارثوں کے حصے طے ہوتے ہیں۔ کارروائی کے لیے خاندان کی درست تفصیل اور وفات کا ثبوت تیار رکھیں۔
جون 2026 کی انگریزی رہنمائی کے مطابق، باضابطہ تقسیم تک جائیداد قانونی وارثوں کے مشترکہ ناموں میں رہتی ہے۔ اس رہنمائی میں درج ہے کہ اس دوران ایک وارث دوسروں کی رضامندی کے بغیر جائیداد فروخت یا منتقل نہیں کر سکتا۔ اپنے معاملے میں ملکیت اور ریکارڈ کی موجودہ حیثیت وکیل سے تصدیق کریں۔
اثاثے کے مطابق منتقلی کا راستہ معلوم کریں: کیا وہ بینک میں ہے یا زمین کے ریکارڈ میں، کیا متوفی کا نام درست ہے اور کیا وارثوں کی فہرست مکمل ہے۔ ملکیت یا وارثوں پر تنازع ہو تو سول عدالت سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسلامی وراثت میں شرعی حصے کیسے طے ہوتے ہیں
ہر وارث کا شرعی حصہ مسلم پرسنل لا کے مطابق طے ہوتا ہے۔ شرعی حصوں کا تعین وفات کے وقت زندہ وارثوں کے رشتوں کے مطابق ہوتا ہے؛ مذہبی فتویٰ الگ سوال ہے۔ یہ صفحہ صرف حصوں کے قانونی حصول کی رہنمائی کرتا ہے۔ جدول عمومی رہنمائی کے لیے ہے؛ اصل حصہ وفات کے وقت زندہ تمام وارثوں کے رشتوں سے معلوم ہوتا ہے۔
| زندہ وارثوں کی صورت | شریک حیات کا حصہ | اولاد کے حصے | والدین کے حصے |
|---|---|---|---|
| بیوہ، اولاد ہو، والدین نہ ہوں | بیوہ 1/8 | ہر بیٹے کو بیٹی سے دوگنا، ہر بیٹی کو ایک حصہ | والدین زندہ نہیں |
| شوہر، اولاد ہو، والدین نہ ہوں | شوہر 1/4 | ہر بیٹے کو بیٹی سے دوگنا، ہر بیٹی کو ایک حصہ | والدین زندہ نہیں |
| بیوہ، والدین اور 2 بچے | بیوہ 1/8 | ہر بیٹے کو بیٹی سے دوگنا، ہر بیٹی کو ایک حصہ | والدہ اور والد، ہر ایک کو 1/6 |
| صرف والدین، نہ شریک حیات نہ اولاد | شریک حیات نہیں | اولاد نہیں | والدہ 1/3، والد 2/3 |
عام اصول کے تحت بیٹے کا حصہ بیٹی سے دوگنا ہے، مگر دوسرے وارثوں کی موجودگی سے تقسیم بدل سکتی ہے۔ صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوں، شریک حیات یا والدین نہ ہوں، تو بیٹے کو 2/3 اور بیٹی کو 1/3 ملتا ہے۔ بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوں تو پہلے بیوہ کا 1/8 الگ ہوتا ہے، پھر باقی بچوں میں 2:2:1 کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔
منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے الگ طریقے
منقولہ اثاثے اور زمین مختلف طریقوں سے منتقل ہوتے ہیں۔ بینک اور حصص کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ درکار ہو سکتا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن یا پنجاب میں انتقال وراثت کا راستہ ہے۔ اثاثے کی نوعیت اور مالک کا ریکارڈ دیکھ کر متعلقہ ادارے سے رجوع کریں۔

بینک، حصص اور دوسرے منقولہ اثاثے
منقولہ اثاثوں میں بینک کھاتے، حصص اور سرمایہ کاری کے کھاتے شامل ہو سکتے ہیں۔ جانشینی سرٹیفکیٹ سول عدالت یا نادرا کے جانشینی سہولت یونٹ سے حاصل کیا جاتا ہے، پھر اسے بینک یا مالی ادارے میں جمع کرائیں۔ ادارہ اپنے ریکارڈ کے مطابق اثاثہ وارثوں کو جاری کرتا ہے۔
وفات کا سرٹیفکیٹ، متوفی کا شناختی کارڈ، وارثوں کے حلف نامے اور اثاثے کا ثبوت ساتھ رکھیں۔ نادرا کے عمل میں ایک قانونی وارث کو پاکستان کے مقررہ مرکز پر خود درخواست دینی ہوتی ہے۔ باقی وارث بیرون ملک بایومیٹرک تصدیق کرا سکتے ہیں، اگر ان کے پاکستانی مشن میں یہ سہولت ہو۔ یہ عمل مکمل طور پر آن لائن نہیں ہوتا۔ تفصیل کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ کی رہنمائی (انگریزی) دیکھیں۔
زمین، مکان اور انتقال وراثت
پنجاب میں زمین یا مکان کے انتقال وراثت کے لیے متعلقہ اراضی ریکارڈ سنٹر (Arazi Record Centre) سے رجوع کریں۔ وفات کا سرٹیفکیٹ، شناختی دستاویزات، جائیداد کے کاغذات اور وارثوں کی فہرست جمع کریں۔ فرد (Record of rights extract) یا ملکیت کے دوسرے کاغذ میں متوفی کا نام اور جائیداد کی تفصیل درخواست سے ملائیں۔ مزید رہنمائی کے لیے پنجاب میں جائیداد کا انتقال دیکھیں۔
آپ اصل دستاویزات اور نقول لے کر متعلقہ اراضی ریکارڈ سنٹر جائیں۔ وکیل وارثوں کی فہرست اور ملکیتی دستاویزات دیکھ کر درخواست تیار کرتا ہے۔ نام چھوٹ جانا، شناختی کارڈ اور زمین کے کاغذ میں املا کا فرق یا ملکیت پر اعتراض رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم وارث شناخت کی تصدیق کا طریقہ نادرا یا متعلقہ پاکستانی مشن سے معلوم کریں۔
خواتین کے وراثتی حقوق اور بہن کا حصہ
بیٹی، بہن، بیوی اور والدہ اپنے شرعی حصے کی حق دار ہیں۔ خاندان کا دباؤ کسی خاتون کا حق خود بخود ختم نہیں کرتا۔ اگر آپ سے حصہ چھوڑنے یا کسی کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا جائے تو پہلے عبارت سمجھیں اور قانونی مشورہ لیں۔ اصل دستاویزات اور خط و کتابت محفوظ رکھیں تاکہ وکیل ضرورت پر انہیں دیکھ سکے۔
کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرنا جرم ہے۔ حصہ نہ ملے تو وہ سول عدالت میں تقسیم کا دعویٰ دائر کرکے اپنے حصے کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔ عدالت وارثی حق اور جائیداد کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر تقسیم کی ڈگری دے سکتی ہے۔ دعوے سے پہلے وفات کا ثبوت، ملکیتی کاغذات اور وارثوں کی مکمل فہرست اکٹھی کریں۔
بیرون ملک مقیم وارثہ شناخت اور دستاویزات کی تصدیق کے تقاضے پہلے معلوم کرے۔ بعض پاکستانی مشن نادرا کے عمل میں بایومیٹرک سہولت دیتے ہیں، مگر یہ ہر مشن میں دستیاب نہیں۔ پاکستان میں نمائندے کے ذریعے کارروائی کے لیے مختار نامہ (Power of Attorney) کی رہنمائی دیکھیں۔
وراثت کا قانون: وصیت اور ایک تہائی کی حد
مسلمان وصیت کے ذریعے ترکے کے ایک تہائی تک کے بارے میں ہدایت دے سکتا ہے؛ باقی ترکہ شرعی حصوں کے مطابق وارثوں کو ملتا ہے۔ وصیت سے پورے ترکے یا کسی وارث کے حصے کا خود بخود فیصلہ نہیں ہوتا۔ وصیت نامہ ملے تو اثاثوں کی فہرست اور وارثوں کے کوائف کے ساتھ قانونی جانچ کے لیے پیش کریں تاکہ اس کا دائرہ واضح ہو۔
قانونی وارث کے حق میں وصیت، یعنی خود وارث شخص کے لیے وصیت، عموماً دوسرے وارثوں کی تحریری رضامندی کے بغیر مؤثر نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر، والد کی وصیت میں ایک بیٹے کو اضافی جائیداد دینے کی بات ہو تو دوسرے وارثوں کی رضامندی اہم ہو سکتی ہے۔ مکمل وصیت اور متعلقہ حقائق دکھائیں تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔
خاندان سے باہر کسی شخص کے لیے وصیت ایک تہائی کی حد کے اندر ہو سکتی ہے، بشرطیکہ دوسرے وارث مقررہ مدت میں اعتراض نہ کریں۔ وصیت، ہبہ اور فروخت کے قانونی اثرات الگ ہیں۔ تفصیل کے لیے ہبہ، فروخت اور وصیت کا تقابل (انگریزی) پڑھیں۔
وراثت کا قانون اور تقسیم کا دعویٰ
وارث جائیداد کی تقسیم پر متفق نہ ہوں تو سول عدالت میں تقسیم کا دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں مشترکہ غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم کے لیے متعلقہ قانون موجود ہے۔ عدالت سے درخواست کی جاتی ہے کہ وارثوں کے حقوق اور جائیداد کے حالات دیکھ کر تقسیم یا مناسب قانونی تصفیے کا حکم دے۔ درست راستہ تنازع کی نوعیت پر منحصر ہے۔
پنجاب کے اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2025 کے تحت، مئی 2026 کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق رپورٹ کے مطابق، بیرون ملک مقیم پاکستانی کے وراثت یا تقسیم سے متعلق جائیداد کا تنازع خصوصی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آ سکتا ہے۔ قانون میں یہ اصطلاح ایسے شخص کے لیے ہے جس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ، CNIC، NICOP، POC یا OPF کارڈ ہو اور جو ٹیکس سال میں 182 دن سے زیادہ بیرون ملک رہتا، کام یا تعلیم کرتا ہو۔ اپنے معاملے میں دائرۂ اختیار کی تصدیق وکیل سے کرائیں۔
تقسیم کا دعویٰ زیر غور آ سکتا ہے اگر وارث تقسیم سے انکار کریں، جائیداد کی قیمت یا حصوں پر اختلاف ہو، یا کسی وارث کا حصہ تسلیم نہ کیا جائے۔ درخواست کے لیے ملکیت کے کاغذات، وفات کا ثبوت، وارثوں کی فہرست اور زمین کا موجودہ ریکارڈ جمع کریں۔ دستاویزات میں تضاد ہو تو وکیل اسے درخواست میں واضح کرتا ہے۔
عدالت جائیداد کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر مقرر کر سکتی ہے اور حالات کے مطابق حصے الگ کرنے یا فروخت کی رقم بانٹنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ڈگری کے بعد وارث اپنے حصے کا اندراج متعلقہ ریکارڈ میں کرانے کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ قبضے یا ملکیت کا الگ تنازع ہو تو لاہور کے پراپرٹی وکیل (انگریزی) سے متعلقہ راستہ معلوم کریں۔
وکیل وراثتی حصہ حاصل کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے
وکیل جانچتا ہے کہ متوفی کے تمام وارث، اثاثے اور موجودہ ملکیتی ریکارڈ درخواست میں شامل ہیں۔ آپ وفات کا سرٹیفکیٹ، متوفی اور وارثوں کے شناختی کارڈ، بینک یا حصص کا ثبوت اور زمین کے کاغذات جمع کریں۔ وکیل کاغذات کا تقابل کرکے نادرا، سول عدالت یا اراضی ریکارڈ سنٹر کے لیے مناسب درخواست اور معاون دستاویزات تیار کرتا ہے۔
نادرا کے جانشینی عمل میں ایک قانونی وارث کو پاکستان کے مقررہ مرکز پر بالمشافہ درخواست دینی ہوتی ہے۔ باقی وارثوں کی بایومیٹرک تصدیق بیرون ملک پاکستانی مشن میں ہو سکتی ہے، اگر وہاں سہولت دستیاب ہو۔ وکیل درخواست مکمل کرنے، کاغذات کی کمی دور کرنے، اعتراض کا جواب دینے اور پیش رفت معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پورا عمل دور سے مکمل نہیں ہوتا۔
ناموں کے املا، نامکمل وارثی فہرست، گم شدہ ملکیتی کاغذ یا وارث کے اعتراض سے تاخیر ہو سکتی ہے۔ پہلی ملاقات پر اصل کاغذات اور نقول لائیں۔ وکیل دیکھے گا کہ جانشینی سرٹیفکیٹ، انتقال یا سول عدالت میں تقسیم کا دعویٰ درکار ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان میں وفات کے بعد جائیداد کیسے تقسیم ہوتی ہے؟
پاکستان میں وراثت کا قانون وفات کے وقت زندہ وارثوں کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم طے کرتا ہے۔ بینک رقم اور حصص کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ درکار ہو سکتا ہے۔ پنجاب میں زمین کے ریکارڈ میں انتقال وراثت درج ہوتا ہے، اور وارثوں میں اختلاف ہو تو سول عدالت سے تقسیم کی ڈگری مانگی جا سکتی ہے۔
بہن یا بیٹی کا وراثت میں کیا حق ہے؟
بہن اور بیٹی شرعی حصے کی حق دار ہیں۔ درست حصہ وفات کے وقت زندہ تمام وارثوں کو دیکھ کر طے ہوتا ہے، اس لیے جدول کی مثال ہر خاندان پر لاگو نہیں ہوتی۔ خاندان کا دباؤ حق ختم نہیں کرتا۔ حصہ روکا جائے تو خاتون سول عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔
کیا بیٹا والد کی زندگی میں وراثت مانگ سکتا ہے؟
وراثت والد کی وفات کے بعد کھلتی ہے۔ والد کی زندگی میں اولاد کو محض رشتے سے وراثتی دعویٰ حاصل نہیں ہوتا۔ زندگی میں ہبہ یا فروخت الگ معاملہ ہے۔ متعلقہ کاغذات وکیل کو دکھائیں تاکہ مناسب قانونی راستے کا جائزہ لیا جا سکے۔
کیا مسلمان کی وصیت شرعی حصوں کو بدل سکتی ہے؟
مسلمان وصیت سے ترکے کے ایک تہائی تک کی ہدایت دے سکتا ہے، اور باقی ترکہ شرعی حصوں کے مطابق وارثوں کو ملتا ہے۔ قانونی وارث کے حق میں وصیت عموماً دوسرے وارثوں کی تحریری رضامندی کے بغیر مؤثر نہیں ہوتی۔ پوری وصیت اور وارثوں کے کوائف قانونی جائزے کے لیے دیں۔
جانشینی سرٹیفکیٹ اور انتقال میں کیا فرق ہے؟
جانشینی سرٹیفکیٹ بینک رقم اور حصص جیسے منقولہ اثاثوں کے حق کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ سول عدالت یا نادرا سے مل سکتا ہے۔ انتقال زمین کے سرکاری ریکارڈ میں متوفی کی جگہ وارثوں کے نام درج کرتا ہے۔ پنجاب میں اس کے لیے اراضی ریکارڈ سنٹر سے رجوع کریں۔
جانشینی سرٹیفکیٹ اور انتقال میں کتنا وقت لگتا ہے؟
جون 2026 کی انگریزی رہنمائی کے اندازے کے مطابق، جانشینی سرٹیفکیٹ میں 2 سے 4 ماہ اور انتقال میں 1 سے 3 ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہ مقررہ مدت نہیں؛ وقت ادارے کے کام، مکمل دستاویزات اور وارثوں کے اعتراض پر منحصر ہے۔
جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے کون سے کاغذات درکار ہوتے ہیں؟
وفات کا سرٹیفکیٹ، متوفی اور وارثوں کی شناختی دستاویزات، وارثوں کے حلف نامے اور منقولہ اثاثے کا ثبوت ساتھ رکھیں۔ بینک یا حصص کے کاغذات بھی درکار ہو سکتے ہیں۔ نادرا کے عمل میں ایک وارث مقررہ مرکز پر بالمشافہ درخواست دیتا ہے۔ بیرون ملک بایومیٹرک سہولت کے بارے میں مشن سے معلوم کریں۔
لاہور میں وراثت کے معاملے پر قانونی مدد
وراثتی درخواست، زمین کے انتقال یا تقسیم کے دعوے کے لیے سعید لا فرم کے لاہور دفتر، فون یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔ لاہور سے باہر اور بیرون ملک مقیم پاکستانی فون، واٹس ایپ یا ویڈیو پر ابتدائی مشاورت لے سکتے ہیں۔ دفتر: وائی بلاک مین مارکیٹ، سیکٹر وائی، ڈی ایچ اے فیز 3، لاہور 54793۔ فون/واٹس ایپ: +92 319 4959420۔ ابتدائی مشاورت مفت ہے۔
