نکاح نامہ (Nikah Nama) شادی کی تحریری شرائط اور بعض اہم حقوق کا ریکارڈ ہے۔ خاص طور پر حق مہر (Dower)، تفویض طلاق (Delegated right of divorce) اور خصوصی شرائط کے خانے بعد میں اختلاف ہو تو اہم ہو جاتے ہیں۔ شادی کے وقت ہر خانہ پڑھیں، خالی یا کاٹے گئے اندراج کی وضاحت لیں اور دستخط شدہ نقل حاصل کریں۔ نکاح کے شرعی ارکان علما کا موضوع ہیں؛ یہ رہنمائی قانونی شقوں اور رجسٹری (registration) کے طریقے کے بارے میں ہے۔
نکاح نامے کے بنیادی حقائق
نکاح نامے کے بعض خانے فریقین کے حقوق اور بعد میں درکار ثبوت سے متعلق ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نکاح رجسٹرار فارم پُر کرتا ہے اور متعلقہ یونین کونسل (Union Council) میں اندراج کرتا ہے۔ دستخط سے پہلے پورا نکاح نامہ پڑھیں، خاص طور پر حق مہر کے خانے 13 تا 16 اور تفویض طلاق کا خانہ 18۔
نکاح نامہ کیا ہے اور نکاح نامہ فارم کس کام آتا ہے
نکاح کے وقت لائسنس یافتہ نکاح رجسٹرار مقررہ فارم مکمل کرتا ہے۔ اس میں میاں بیوی، گواہوں، رجسٹرار اور طے شدہ شرائط کا ریکارڈ درج ہوتا ہے۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 اور اس کے قواعد کے تحت یہ فارم استعمال ہوتا ہے۔ اس میں ذاتی کوائف، حق مہر اور خصوصی شرائط لکھی جاتی ہیں، اس لیے ہر خانہ پڑھ کر دستخط کریں۔
نکاح کا معاہدہ فریقین کی پیش کش اور قبولیت سے قائم ہوتا ہے۔ نکاح نامہ اس معاہدے کا دستاویزی ثبوت ہے اور اسے عدالت یا متعلقہ ادارے میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر دلہا، دلہن، دو گواہ اور نکاح رجسٹرار فارم پر دستخط کرتے ہیں۔
یونین کونسل مکمل اور مہر شدہ فارم اپنے رجسٹر میں رکھتی ہے، جبکہ فریقین کو اپنی اپنی نقل ملتی ہے۔ عدالت، بینک، نادرا یا سفارت خانے کو شادی کا ثبوت درکار ہو تو زبانی بیان کے بجائے یہی ریکارڈ مانگا جا سکتا ہے۔
شادی کے دن نکاح رجسٹرار مصروف ہو سکتا ہے۔ پھر بھی فارم پڑھنے اور وضاحت لینے کے لیے وقت لیں۔ دلہا اور دلہن اپنے کوائف، شناختی کارڈ نمبر، گواہوں کے نام، حق مہر اور ہر خاص شرط خود پڑھیں۔ جو خانہ سمجھ نہ آئے، دستخط سے پہلے رجسٹرار سے پوچھیں؛ خاندان کے کسی فرد کی زبانی وضاحت اصل تحریر کی جگہ نہیں لے سکتی۔ پاکستان میں کورٹ میرج کی وضاحت (انگریزی) میں رضامندی اور اندراج کا پس منظر بھی دیا گیا ہے۔
نکاح نامہ کی شرائط اور وہ خانے جو حقوق طے کرتے ہیں
دستخط سے پہلے نکاح نامہ پورا پڑھیں۔ اس کے اہم خانوں میں حق مہر، باہمی خصوصی شرط، تفویض طلاق، شوہر کے حق طلاق پر پابندی اور پہلے سے شادی کا اندراج شامل ہیں۔ ہر خانے کا مطلب الگ ہے۔ خالی یا کاٹا ہوا اندراج بعد میں فریقین کے مؤقف اور ثبوت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
| خانہ یا معاملہ | اس میں کیا درج ہوتا ہے | دستخط سے پہلے کیا دیکھیں |
|---|---|---|
| 13 تا 16 | حق مہر (Dower) کی طے شدہ صورت، فوری یا مؤخر ادائیگی اور طریقۂ ادائیگی | رقم واضح ہو، فوری اور مؤخر حصے الگ لکھے ہوں، ادائیگی کی صورت درج ہو |
| 17 | نکاح نامے کی شرائط یا خصوصی شرائط | باہمی طے شدہ شرط مکمل اور صاف لکھی ہو، زبانی وعدے پر نہ چھوڑیں |
| 18 | شوہر کی جانب سے بیوی کو تفویض طلاق (Delegated right of divorce) | خانہ پُر ہے یا کاٹا گیا ہے، اور درج اختیار کی شرط کیا ہے |
| 19 | شوہر کے حق طلاق پر باہمی طے شدہ پابندیاں | لکھی گئی پابندی واضح ہو اور خانہ خالی یا کاٹا ہوا نہ ہو |
| 21 | پہلے سے شادی اور ثالثی کونسل (Arbitration Council) کی اجازت کی تفصیل | موجودہ شادی اور اجازت کے بارے میں اندراج درست اور مکمل ہو |
خانے 13 تا 16 میں حق مہر کی نوعیت اور ادائیگی کا طریقہ دیکھیں۔ خانہ 17 میں وہی شرط درج کریں جس پر دونوں فریق متفق ہوں اور جو نکاح کی بنیادی نوعیت یا واضح اسلامی قانون سے متصادم نہ ہو۔
خانہ 18 میں تفویض طلاق کا اندراج اور اس کی شرط پڑھیں۔ خانہ 19 شوہر کے حق طلاق پر پابندیوں سے متعلق ہے، جبکہ خانہ 21 پہلے سے شادی اور مطلوبہ اجازت کا اندراج ہے۔

خانے 13 تا 16 میں حق مہر
حق مہر نکاح کے معاہدے کے تحت شوہر کے ذمے بیوی کا حق ہے، کوئی ایسا تحفہ نہیں جسے وہ اپنی مرضی سے روک دے۔ خانے 13 تا 16 میں طے شدہ حق مہر، اس کی فوری اور مؤخر ادائیگی اور ادائیگی کی صورت درج ہوتی ہے۔ فوری حق مہر نکاح کے وقت واجب الادا ہوتا ہے، جبکہ مؤخر حق مہر بعد میں، عموماً طلاق یا شوہر کی وفات پر، واجب الادا ہو سکتا ہے۔
اندراج میں حق مہر کی طے شدہ مقدار اور دونوں حصوں کی تفصیل صاف ہونی چاہیے۔ یہ بھی درج ہو کہ ادائیگی نقد، جائیداد یا کسی دوسری طے شدہ قدر کی صورت میں ہوگی۔ یہ تحریر بعد میں ادائیگی کے ثبوت کے کام آ سکتی ہے۔
اگر خانہ خالی رہے، عبارت مبہم ہو یا فوری اور مؤخر حصے الگ نہ ہوں تو بعد میں بیوی کو دوسرے شواہد سے یہ ثابت کرنا پڑ سکتا ہے کہ حقیقتاً کیا طے ہوا تھا۔ برسوں بعد خاندان کی یادداشتیں مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے طے شدہ بات اسی وقت تحریر میں لائیں۔
خانہ 17 میں خصوصی شرائط
خانہ 17 میں فریقین نکاح کے معاہدے کے لیے باہمی طور پر طے شدہ خصوصی شرط درج کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ نکاح کی بنیادی نوعیت یا اسلامی قانون کے کسی واضح حکم سے متصادم نہ ہو۔ مثال کے طور پر، جوڑے بیوی کے شادی کے بعد ملازمت یا تعلیم جاری رکھنے کے بارے میں اپنی طے شدہ شرط لکھوا سکتے ہیں۔ شوہر کی دوسری شادی سے متعلق رضامندی کی شرط بھی اسی خانے میں درج کی جا سکتی ہے۔
نکاح کے وقت یہ شرط تحریر کی جا سکتی ہے۔ زبانی طور پر طے شدہ مگر فارم میں درج نہ کی گئی شرط بعد میں ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ عبارت دونوں فریقوں کو سمجھ آنی چاہیے، کسی خانے میں مبہم اشارہ یا نامکمل جملہ نہ ہو۔ دستخط سے پہلے اصل الفاظ پڑھیں اور اگر آپ کو اندراج کا مطلب واضح نہ ہو تو رجسٹرار سے وضاحت لیں۔
خانہ 18 میں تفویض طلاق
تفویض طلاق شوہر کی طرف سے بیوی کو طلاق کا اختیار دینا ہے۔ اس کا اندراج نکاح نامے کے خانے 18 میں ہوتا ہے۔ اگر یہ خانہ پُر ہو اور کاٹا نہ گیا ہو تو بیوی درج شدہ اختیار اور اس کی شرائط کے مطابق طلاق کا حق استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے لیے شوہر کا تعاون یا خلع (Khula) کا دعویٰ درکار نہیں ہوتا۔
مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ 8 کے تحت دفعہ 7 کا نوٹس کا طریقہ ضروری تبدیلیوں کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔ خانے کے نشان کے ساتھ اصل عبارت پڑھیں اور اسی کے مطابق قانونی کارروائی کریں۔
تقریب کے وقت یہ خانہ ضرور دیکھیں۔ کبھی اسے عادتاً کاٹ دیا جاتا ہے یا بات کیے بغیر خالی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دلہن کو خانہ 18 کی عبارت دکھائیں؛ اگر اسے کاٹا گیا ہے تو یہ بات واضح ہونی چاہیے۔
کاٹا ہوا خانہ یہ نہیں بتاتا کہ اختیار دیا گیا ہے۔ بیوی شوہر کی رضامندی کے بغیر فیملی کورٹ (Family Court) میں خلع (Khula) کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے، اور اس کے لیے شوہر کی کسی غلطی کا ثبوت لازم نہیں۔ خلع، 1939 کے قانون کی دفعہ 2 کے تحت غلطی کی بنیاد پر نکاح ختم کرانے کے عدالتی دعوے سے الگ راستہ ہے۔ پاکستان میں خلع کے قانونی طریقے کی رہنمائی اس عدالتی راستے کی تفصیل دیتی ہے۔
خانہ 19 اور شوہر کے حق طلاق کی پابندیاں
خانہ 19 میں فریقین شوہر کے حق طلاق کے استعمال پر باہمی طور پر طے شدہ پابندی لکھ سکتے ہیں، مثلاً بیوی کو تحریری اطلاع دینے یا انتظار کی شرط۔ خانہ 18 میں بیوی کو تفویض شدہ اختیار درج ہوتا ہے؛ خانہ 19 شوہر کے حق کے استعمال سے متعلق شرط کا ریکارڈ ہے۔
اگر آپ کوئی شرط طے کرتے ہیں تو اسے صاف الفاظ میں لکھوائیں۔ خانہ خالی ہو تو اسے پُر شدہ سمجھ کر دستخط نہ کریں، اور کاٹے گئے الفاظ دیکھے بغیر فارم قبول نہ کریں۔ قانونی اثر اصل عبارت اور حالات پر منحصر ہوگا، اس لیے اپنے مطلب کو زبانی گفتگو سے نہیں بلکہ مکمل فارم سے جانچیں۔
خانہ 21 اور پہلے سے موجود شادی
خانہ 21 میں درج ہوتا ہے کہ کیا دولہا پہلے سے شادی شدہ ہے اور، اگر ہے، تو مزید شادی سے پہلے ثالثی کونسل (Arbitration Council) سے اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت دوسری شادی سے پہلے متعلقہ اجازت کا تقاضا ہے۔ اس اندراج سے معلوم کریں کہ مزید شادی سے پہلے اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ غلط یا نامکمل جواب سے اجازت کی صورت واضح نہیں ہوتی۔
دستخط سے پہلے اس خانے کے جواب کی تصدیق کریں اور اجازت سے متعلق ریکارڈ موجود ہو تو اس کی تفصیل لیں۔ پہلی شادی چھپانے یا اجازت کے خانے کو خالی چھوڑنے سے بعد میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ دوسری شادی کے قانون کی رہنمائی (انگریزی) اجازت کے طریقے اور اس کے قانونی پہلو بیان کرتی ہے۔
نکاح نامے پر دستخط کے وقت عام غلطیاں
عام غلطیوں میں فارم پڑھے بغیر دستخط کرنا، حق مہر مبہم چھوڑنا، خانہ 18 کے کٹنے پر دھیان نہ دینا اور اپنی نقل لیے بغیر تقریب سے چلے جانا شامل ہیں۔ جلدی یا خاندان کی موجودگی میں دلہا یا دلہن وضاحت مانگنے سے ہچکچا سکتے ہیں۔ بعد کے تنازع میں اصل تحریر اہم ثبوت بن سکتی ہے، اس لیے دستخط سے پہلے یہ چھ باتیں خود دیکھیں:
- ہر خانہ پڑھیں، حتیٰ کہ خالی خانہ یا کاٹی گئی عبارت بھی۔ نکاح رجسٹرار سے نامکمل یا ناقابلِ فہم اندراج واضح کروائیں۔
- حق مہر کی رقم، فوری اور مؤخر حصے اور ادائیگی کی صورت کی تصدیق کریں۔ اسے بعد میں طے کرنے کے وعدے پر نہ چھوڑیں۔
- خانہ 18 میں تفویض طلاق کا اندراج دیکھیں۔ اگر اختیار درج نہیں یا اسے کاٹا گیا ہے تو دستخط سے پہلے اس کی وضاحت لیں۔
- نام، شناختی کارڈ نمبر، پتے اور گواہوں کی تفصیلات اپنے شناختی ریکارڈ سے ملائیں۔ غلط املا بعد میں نادرا یا پاسپورٹ دفتر میں ریکارڈ ملانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
- گواہ نکاح کے موقع پر موجود ہوں اور فارم پر اسی اندراج کے مطابق دستخط کریں۔ بعد میں دستخط کرنے والے گواہ سے متعلق سوال اٹھ سکتا ہے۔
- نکاح رجسٹرار سے پوچھیں کہ اندراج کس یونین کونسل میں ہوگا، اور مکمل، دستخط شدہ نکاح نامے کی اپنی نقل اسی وقت لیں۔
مذہبی تقریب کے بعد بھی سرکاری اندراج ضروری ہے۔ نکاح خواں یا خاندان کی زبانی یقین دہانی سے فارم کے اندراجات کا پتا نہیں چلتا۔ ہر فریق دستخط سے پہلے اصل نکاح نامہ دیکھے، کیونکہ غلطی بعد میں درست کرانے کے لیے مزید دفتری کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔
نکاح نامے کی رجسٹریشن سے اندراج کیسے مکمل ہوتا ہے
مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ 5 کے تحت ہر نکاح متعلقہ یونین کونسل کو رپورٹ اور وہاں رجسٹر ہونا چاہیے۔ نکاح رجسٹرار فارم مکمل کرنے کا لائسنس یافتہ اہلکار ہے اور اس پر نکاح کی اطلاع متعلقہ یونین کونسل تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ وہ یونین کونسل متعلقہ ہوتی ہے جس کے دائرۂ اختیار میں نکاح ہوا ہو۔
عملی طور پر نکاح رجسٹرار نکاح کے موقع پر فارم مکمل کر کے اس پر دستخط اور مہر لیتا ہے، پھر رجسٹریشن کے لیے نکاح نامہ متعلقہ یونین کونسل کے ریکارڈ میں جمع کراتا ہے۔ دلہا اور دلہن اپنے کوائف اور شرائط پڑھ کر دستخط کرتے ہیں، دونوں گواہ بھی دستخط کرتے ہیں، اور عام طور پر ہر فریق کو اپنی نقل دی جاتی ہے۔ اگر آپ کو معلوم نہیں کہ ریکارڈ کہاں جمع ہوا، تو پہلے اپنے نکاح نامے پر درج رجسٹرار اور یونین کونسل کی معلومات دیکھیں۔
قانونی اندراج شادی کا قابلِ تصدیق سرکاری ریکارڈ بناتا ہے، جس کی نقل سرکاری کاموں میں درکار ہو سکتی ہے۔ اندراج نہ ہونا قانون کے تحت جرم ہو سکتا ہے؛ اس سے بذاتِ خود نکاح کے مذہبی جواز کا فیصلہ نہیں ہوتا۔
تاخیر سے اندراج کی درخواست متعلقہ یونین کونسل کو دی جا سکتی ہے۔ تاخیر کی وجہ بیان کرنے والا حلف نامہ عموماً معاون ہوتا ہے، مگر مقامی دفتر کی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔ بیرون ملک ہونے والے یا غیر لائسنس یافتہ رجسٹرار کے نکاح میں پہلے متعلقہ یونین کونسل سے طریقہ معلوم کریں۔
نکاح نامے کی مصدقہ نقل یا تصدیق کیسے حاصل کریں
مصدقہ نقل اسی یونین کونسل سے لیں جس کے رجسٹر میں نکاح درج ہے۔ اگر دفتر یاد نہیں تو دستیاب نکاح نامے پر رجسٹرار کا نام، مہر، اندراجی نمبر اور یونین کونسل کی درج شدہ شناخت دیکھیں۔ یہ تفصیلات متعلقہ ریکارڈ رکھنے والے دفتر تک پہنچنے اور نقل کی درخواست کا طریقہ معلوم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
اصل نقل گم ہو یا ریکارڈ میں اختلاف ہو تو نکاح کی تاریخ، فریقین کے نام، رجسٹرار کا نام اور دستیاب مہر یا اندراجی نمبر تلاش کریں۔ یہ معلومات درخواست تیار کرتے وقت کام آتی ہیں، مگر سرکاری نقل کے لیے متعلقہ دفتر سے درخواست گزار اور درکار کاغذات کی تصدیق کریں۔ ریکارڈ یا ناموں میں فرق ہو تو درخواست سے پہلے اسے واضح کرنے کے لیے دستیاب دستاویزات جمع کریں۔
نادرا کا میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (Marriage Registration Certificate, MRC) یونین کونسل کے اصل رجسٹر سے الگ کمپیوٹرائزڈ قومی ریکارڈ ہے۔ پاکستانی شادی میں غیر ملکی شریکِ حیات کے ساتھ وزارتِ خارجہ سے تصدیق کے لیے اصل نکاح نامہ اور یہ سرٹیفکیٹ درکار ہیں۔ دوسرے ویزا یا بیرونِ ملک استعمال کے لیے متعلقہ ادارے سے مطلوبہ دستاویز کی تصدیق کریں۔ یہ نکاح نامے کی جگہ استعمال نہیں ہوتا، کیونکہ دونوں ریکارڈ الگ کام کرتے ہیں۔ نادرا میرج سرٹیفکیٹ کا طریقہ (انگریزی) درخواست اور دونوں ریکارڈز کے فرق کی وضاحت کرتا ہے۔
اگر شادی یا دستخط متنازع ہوں، یا دستاویز میں تبدیلی کا شبہ ہو تو صرف کاغذی نقل پر انحصار نہ کریں۔ متعلقہ یونین کونسل کے رجسٹر یا نادرا کے ریکارڈ سے مطابقت دیکھیں۔ کسی فریق کے دستخط سے انکار یا اندراج کی صحت پر اختلاف کی صورت میں وکیل ریکارڈ کی جانچ میں مدد دے سکتا ہے۔
کیا شادی کے بعد نکاح نامہ تبدیل ہو سکتا ہے
نام یا تاریخ کی کتابتی غلطی عموماً معاون دستاویزات کے ساتھ متعلقہ یونین کونسل میں درست کرانے کی درخواست سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔ مگر نکاح کے بعد نئی شرط شامل کرنا یا حق مہر کا طے شدہ بندوبست بدلنا اصل فارم پر قلم پھیر کر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی بنیادی تبدیلی کے لیے میاں بیوی کے درمیان الگ، نیا اور باقاعدہ تحریری معاہدہ درکار ہو سکتا ہے۔
میاں بیوی باہمی رضامندی سے شادی کے بعد کا ضمنی معاہدہ کر سکتے ہیں اور اسے مقررہ طریقے کے مطابق یونین کونسل میں درج کروا سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ خاندانوں کے درمیان زبانی یا غیر رسمی طور پر طے کرنے کے بجائے وکیل سے تیار کروائیں، کیونکہ غیر رسمی معاہدہ ہی بعد میں تنازع بنتا ہے جب کوئی فریق ثابت نہ کر سکے کہ اصل میں کیا طے ہوا تھا۔
نکاح نامے کے تنازعات میں وکیل کیا دیکھتا ہے
نکاح نامے کے تنازع میں وکیل اصل فارم، دستخط، رجسٹریشن اور متعلقہ خانے دیکھتا ہے۔ حق مہر کی عدم ادائیگی، خانہ 18 میں اختیار درج یا منسوخ ہونے کا اختلاف، جعلی یا دباؤ میں لیے گئے دستخط، رجسٹریشن کی کمی، اور دوسری شادی کے لیے اجازت سے متعلق خانہ 21 کے سوالات سامنے آ سکتے ہیں۔ نتیجہ اصل دستاویز اور دستیاب ثبوت کے مطابق طے ہوتا ہے۔
حق مہر کے دعوے میں وکیل خانے 13 تا 16، فوری اور مؤخر حصے اور ادائیگی کی تفصیل دیکھتا ہے۔ تفویض طلاق کے اختلاف میں خانہ 18 کی عبارت اور اس پر کٹائی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ دستخط سے انکار ہو تو فریقین کا مؤقف اور دستیاب ریکارڈ جانچا جاتا ہے۔
اگر نکاح رجسٹر نہیں ہوا یا تفصیلات غلط درج ہوئیں تو حضانت (custody)، وراثت یا امیگریشن کے معاملے میں شادی کا ثبوت فراہم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مؤکل کے کاغذات دیکھ کر وکیل پہلے متعلقہ اندراج یا ریکارڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔
لاہور میں وکیل سے مشورے کے لیے اصل نکاح نامہ یا واضح نقل، دونوں فریقوں کے شناختی کارڈ کی نقول، یونین کونسل کی درج شدہ تفصیل اور سابقہ درخواست یا خط و کتابت لائیں۔ بیرون ملک مقیم خاندان فون، واٹس ایپ یا ویڈیو پر ابتدائی مشاورت لے سکتے ہیں۔
وکیل نکاح نامے پر رجسٹرار کا نام، مہر، اندراجی نمبر اور دفتر دیکھ کر ریکارڈ کی شناخت میں مدد کرتا ہے۔ پھر متعلقہ یونین کونسل سے تصدیق یا مصدقہ نقل لینے کا طریقہ معلوم کیا جاتا ہے۔ مؤکل اصل حقائق اور دستیاب کاغذات دیتا ہے۔ وکیل انہی کی بنیاد پر ممکنہ قانونی راستے سمجھاتا ہے۔
نکاح نامے کے بارے میں عام سوالات
نکاح نامہ کیا ہوتا ہے؟
نکاح نامہ نکاح کے وقت مکمل ہونے والا تحریری معاہدہ اور سرکاری اندراج کا ریکارڈ ہے۔ اس میں دلہا، دلہن، گواہوں، حق مہر اور باہمی خصوصی شرائط کی تفصیل ہوتی ہے۔ دلہا، دلہن، دو گواہ اور نکاح رجسٹرار دستخط کرتے ہیں، پھر متعلقہ یونین کونسل ریکارڈ محفوظ کرتی ہے۔
نکاح نامے کا خانہ 18 کس بارے میں ہے؟
خانہ 18 میں شوہر کی طرف سے بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کا اندراج ہوتا ہے، جسے تفویض طلاق کہتے ہیں۔ خانہ پُر ہو اور کاٹا نہ گیا ہو تو بیوی درج شدہ اختیار اور اس کی شرط کے مطابق اسے استعمال کر سکتی ہے۔ دستخط سے پہلے خانہ پڑھیں۔ اگر یہ خالی یا کاٹا ہوا ہے تو وضاحت لیں، اسے اختیار دینے کا اندراج نہ سمجھیں۔
نکاح نامے میں حق مہر کیسے لکھا جائے؟
خانے 13 تا 16 میں طے شدہ حق مہر صاف درج کریں، فوری اور مؤخر حصے الگ بتائیں، اور ادائیگی کی صورت لکھیں۔ فوری حق مہر نکاح کے وقت واجب الادا ہوتا ہے؛ مؤخر حصہ بعد میں واجب الادا ہو سکتا ہے۔ خالی یا مبہم اندراج سے بعد میں یہ ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ کیا طے ہوا تھا۔
نکاح نامے کی تصدیق کیسے کی جا سکتی ہے؟
اسے اس یونین کونسل کے رجسٹر سے ملائیں جہاں نکاح درج ہوا تھا، یا متعلقہ نادرا ریکارڈ سے تصدیق لیں۔ اگر شادی متنازع ہو یا دستاویز میں تبدیلی کا شبہ ہو تو صرف کاغذی نقل پر بھروسا کافی نہیں۔ وکیل متعلقہ دفتر سے ریکارڈ کی جانچ کے طریقے میں مدد کر سکتا ہے۔
نکاح نامے کی مصدقہ نقل کہاں سے ملتی ہے؟
مصدقہ نقل اسی یونین کونسل سے مانگیں جس نے نکاح درج کیا تھا۔ اپنا شناختی کارڈ اور شادی کی تفصیلات ساتھ رکھیں۔ اگر ویزا یا بیرون ملک استعمال کے لیے متعلقہ ادارہ کمپیوٹرائزڈ قومی ریکارڈ مانگے تو نادرا میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی الگ درخواست دیں۔ یہ یونین کونسل کی نقل سے مختلف دستاویز ہے۔
نکاح رجسٹر نہ ہوا ہو تو کیا کیا جائے؟
متعلقہ یونین کونسل سے تاخیر سے اندراج کا طریقہ معلوم کریں۔ درخواست کے ساتھ نکاح کی تفصیلات اور تاخیر کی وجہ بتانے والا حلف نامہ عموماً مانگا جا سکتا ہے۔ مطلوبہ ثبوت دفتر اور معاملے کے مطابق مختلف ہوں گے۔ عدم اندراج قانونی مسئلہ پیدا کر سکتا ہے اور بعد میں شادی کا ثبوت پیش کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔
کیا شادی کے بعد نکاح نامہ بدلا جا سکتا ہے؟
معاون ثبوت کے ساتھ کتابتی غلطی درست کرانے کی درخواست یونین کونسل میں دی جا سکتی ہے۔ نئی شرط یا حق مہر کا بنیادی بندوبست بدلنا الگ معاملہ ہے؛ اصل فارم میں بعد ازاں ترمیم کے بجائے میاں بیوی کا نیا، باقاعدہ تحریری اور گواہوں کے سامنے طے شدہ معاہدہ درکار ہو سکتا ہے۔
لاہور میں نکاح نامے کے معاملے پر قانونی رہنمائی
نکاح نامے پر دستخط سے پہلے خانے سمجھنے ہوں یا حق مہر، طلاق یا رجسٹریشن کا تنازع ہو تو سعید لا فرم سے ابتدائی مشاورت لیں۔ دفتر Y بلاک مین مارکیٹ، سیکٹر Y، ڈی ایچ اے فیز 3، لاہور میں ہے۔ لاہور سے باہر اور بیرون ملک مقیم پاکستانی خاندان فون، واٹس ایپ یا ویڈیو کے ذریعے بھی ابتدائی گفتگو کر سکتے ہیں۔
مشاورت پر دستیاب نکاح نامہ، شناختی کارڈ کی نقول اور اپنے سوالات ساتھ لائیں۔ وکیل متعلقہ خانے پڑھ کر ممکنہ قانونی راستے بتائے گا۔ یونین کونسل سے تصدیق یا نقل درکار ہو تو متعلقہ دفتر اور اگلا قدم بھی سمجھائے گا۔ فون یا واٹس ایپ: +92 319 4959420۔ ابتدائی مشاورت مفت ہے۔
